سنجیدہ باجی | کوی شنکر

آپ یقینن بہت سے ٹیچرز سے واقف ہیں۔۔لیکن سنجیدہ باجی کا آپ نے نام تک نہیں سنا ہوگا۔ ہمارے اسکول کی شان ہیں سنجیدہ باجی۔۔۔وہ ایک عرصے سے اسکول میں طبعیات اور حساب پڑھا رہیں ہیں۔ بقول ان کے انہیں دونوں مضامین پر عبور حاصل ہے۔۔۔ ‘‘کلاس میں بچوں کو کبھی کتاب دیکھ کر نہیں پڑھاتی۔۔ کتابیں رٹی ہوئی ہیں۔’’
سنجیدہ باجی پینتالیس بہاریں دیکھ چکی ہیں۔۔لیکن ایک بھی بہار انہیں چھو کر نہیں گذری۔۔ سانولی رنگت ، مرجھایا ہوا چہرہ اور دبلی پتلی جسامت کی مالک سنجیدہ باجی کم و بیش سال کے بارہ ماہ بیمار ہی رہتیں ہیں۔۔
انیوں نے پسند کی شادی کی۔۔میاں کا نام مہربان ہے۔۔ بڑی بڑی موچھیں دیکھ کر کبھی کسی کو ان سے مہربانی کا گماں نہیں ہوا۔۔ مہربان محکمہ تعلیم میں کلرک تھے اور قبل ازوقت رٹائرمینٹ لیکر اب گھر ہی کے ہوکر رہ گئے ہیں۔ اب گھر کے چھوٹے موٹے کام ان کی ذمہ داری ہیں اور باہر کا سارا بیڑا سنجیدہ باجی نے اپنے سر اٹھا رکھا ہے۔۔
بحث مباحثے میں کوئی سنجیدہ باجی سے جیت پایا اور نہ کبھی کسی کی تنقید برداشت کی۔۔انہوں نے ہمیشہ پتھر کا جواب اینٹ سے دیا۔
ان سب باتوں کے باوجود وہ بڑی ملن سار اور خوش اخلاق ہیں۔۔لیکن یہ خوش اخلاقی اپنی ذات ، شوہر اور بچوں تک ہے۔۔آواز ایسی کرخت کہ سب گونگا بہرا کردے ۔
اگر بات اچھی ٹیچر کے نکلے تو سنجیدہ باجی بغیر کوئی موقعہ گنوائے خود کو آئڈیئل ٹیچر کے طور پر پیش کردیں اور اپنی ٹیچنگ کی مہارت ، پڑھانے کا انداز، طلبہ سے بہتر رویا اور سمجھداری سمیت انگنت خوبیاں گنوا دیں۔۔۔
ذکر چھڑے اچھے شوہر ، بیٹے یا بیٹیوں کا تو دنیا کا سب سے فرمانبردار اور اچھا شوہر مہربان، اچھے بچے اپنے بچے۔ جب کسی نے اچھے گھر کا پوچھا تو برملا کہتیں ‘‘سب سے خوبصورت میرا گلشن ہے۔۔’’
یہی نہیں، بیمار یا بیماری کا قصہ شروع ہو، تو بھی سنجیدہ باجی ہی بول پڑیں اور کہیں کہ وہ سخت بیمار ہیں، بیماری کے باجود وہ ٹیچنگ کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔۔یوں ان کی باتیں تیز کھانسنے پر آکر اختتام پذیر ہونے لگتیں۔۔
ان سب باتوں کولیکر وہ اسکول اور محلے میں ہمہ وقت مقبول ہیں۔۔سبھی کہتے ہیں یہی تو ہیں ہماری سنجیدہ باجی

#آج تک 

ٹیگز

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close