زندگی سے استعفیٰ | کوی شنکر

کوی شنکر

خودکشی بزدلی ہے۔ ۔ ۔اکثریت ایسا کہتی ہے لیکن وہ کون سے عوامل ہیں جن سے گذرتے ہوئے انسان یہ انتہائی قدم اٹھانے کی طرف بڑھتا ہے۔۔ خود کو بند گلی میں دیکھتا ہے، جہاں اسے کوئی راستہ، کوئی سہارا، کوئی امید، کسی تنکے تک کی آس نہیں ہوتی اور وہ کوئی راہ نہ پاتے ہوئے یہ انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔
ایسی کیفیت جو آگے چل کر خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور کرتی، سب پر آتی ہے، لیکن اکثریت کیفیت سے جلد نکل جاتی ہے۔
اداکارہ نرگس نے ایک انٹرویو میں موسیقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ‘‘ اگر موسیقی نہ ہوتی، لتا، رفیع اور کشور نہ ہوتے تو لوگ اپنے دکھوں اور غموں کی وجہ سے جینا ترک کر دیتے۔ موسیقی نے لوگوں کو حوصلہ دیا ہے۔’’
میرا خیال ہے کہ صرف موسیقی ہی نہیں، فنون لطیفہ کا ہرشعبہ، جس میں اظہارکی آزادی ہوتی ہے، اندر کی کیفیت یا غبارباہر نکالنے کا موقع ملتا ہے، اور اس سے طبعیت میں ٹھراؤ پیدا ہوتا ہے۔۔ لیکن کبھی کبھی یہ بھی کافی نہیں ہوتا۔۔ تبھی تو گرو دت سے لے کر ششانت سنگھ راجپوت تک شعبہ اداکاری سے وابستہ بڑے نام کیسے یہ انتہائی قدم اٹھاتے؟
جان نثار اختر کہتے ہیں کہ :
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لئے ہیں۔
موت کی دو قسمیں ہیں، طبعی موت اور خودکشی ہے۔ خودکشی بھی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک یکمشت زندگی کا خاتمہ اور دوسرا ٹکڑوں میں مرنا۔۔
زندگی کی دوڑ میں جو لوگ بہت کمزور پڑ جاتے ہیں وہ یکمشت مرتے ہیں اور جن کو ٹکڑوں میں روزانہ مرنے کی ہمت ہوتی ہے وہ لوگ بہادر ہوتے ہیں۔۔ کیونکہ مرنا آسان اور جینا بہت کٹھن ہوتا ہے۔
ذرہ سوچئے پیر میں ایک چھوٹی سی کیل چبھنے پر درد سے کراہنے والے گلے میں پھندہ ڈال کر یا کسی اور طریقے سے اپنی زندگی کا چراغ گل کردیتے ہیں۔۔ کیا کیفیت ہوتی ہوگی جو کچھ اور سوجتا ہی نہیں ہے۔
کچھ لوگ نشے میں ڈوب کر بھی اپنا خاتمہ کردیتے ہیں، کیونکہ جب ناامیدی حاوی ہوجاتی ہے تو پھر کچھ بھی سمجھ نہیں آتا اور بندہ نشے کی دلدل میں دھنستا چلاجاتا ہے۔۔
ان دنوں خودکشی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔۔ پرامن صحرا تھر میں متواتر خودکشیاں ہو رہی ہیں۔۔ ان واقعات کے پیچھے غربت اور پسند کی شادی کے لئے اجازت کا نہ ملنا سر فہرست ہیں۔۔
فلمی ستاروں سے ہٹ کر بھی پڑوسی ملک بھارت میں کسان کئی سالوں سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔۔ وجہ وہی غربت ہے۔۔۔
یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک پرانا دوست یاد آگیا۔ یہ دوست ان دنوں خودکشی کا سوچ رہا تھا۔۔ اس نے جب مجھے بتایا تھا کہ ‘‘ وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے۔’’ اس کی بات سن کر میں چکرا گیا تھا۔
کیوں خودکشی کرنا چاہتے ہو، کیا ہوگیا ایسا، تم ٹھیک ہو، تم کو جانتا ہوں، بظاہر کوئی پریشانی نہیں پھر تم کو ایسا خیال کیوں آیا ؟؟؟’’ میں نے بہت سارے سولات داغے تھے۔
‘‘ جینا نہیں چاہتا، کوئی مقصد نہیں رہا، کوئی چارم نہیں ہے جینے میں!!’’ اس نے مختصر سا جواب دیا تھا۔
ہم یہ گفتگو ایک ہوٹل پر کر رہے تھے، جہاں روزانہ شام کی چائے پر ہماری مختلف موضوعات پر گفتگو رہتی تھی۔
دوست کی خودکشی کی بات پر میں حیران تھا، مجھے حیران دیکھ کر وہ کہنے لگا۔
‘‘سندھ یونیورسٹی کے وی سی علامہ آئی آئی قاضی نے خودکشی کیوں کی تھی؟ وہ باہر سے تعلیم یافتہ تھے، جرمن خاتون سے شادی کی تھی۔ ایک پر آسائش زندگی گذار رہے تھے۔۔ وہ ایک مذہبی اور پڑھے لکھے آدمی تھے۔ ان کی تحریروں سے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبید اللہ سندھی اور جارج برناڈ شا جیسی شخصیات بہت متاثر تھیں۔ پھر وہ جامشورو پل سے دریائے سندھ میں کیوں کود گئے۔’’
دوست نے اس کے بعد کئی پڑھے لکھے اور مستحکم زندگی گذارنے والوں کے نام گنوائے جو وقت سے پہلے کوئیٹ کر چکے تھے۔۔
بقول دوست کے‘‘ انہوں نے وقت سے پہلے زندگی کو استعفیٰ دے دیا۔’’
دوست اکیلا نہیں تھا،ایک بڑے حلقہ کا حصہ تھا، وقت گذرنے کے ساتھ وہ ذہنی دباؤ کی کیفیت سے نکل آیا۔ تاحال ہے زندہ ہے لیکن ہماری طرح قطرہ قطرہ مر رہا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ خودکشی کرنا گناہ ہے، تو پھر کسی کو قتل کرنا کونسا ثواب کا کام ہے! جب سماج خودکشی کو برا اورغلط سمجھتا ہے تو پھر کسی اور کو کیوں قتل کرتا ہے۔ کسی کے مال ملکیت پر یا کسی کو حاصل نہ کر سکنے پر اس کی جان کیوں لے لیتا ہے۔ حق تلفی، کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ کیوں اٹھاتا ہے۔ کسی کی سوچ، خیالات اور جذبات کا کیوں خون کرتا ہے۔
شیکسپیئر نے کہا ہے کہ دنیا اسٹیج ہے اور ہم سب کردار۔ جس طرح فلم میں کوئی اداکار اپنے مقررہ کردار سے زیادہ رکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کردار بوریت اور بیزاری پیدا کر دیتا ہے۔
سماج میں بھی ہم سب کا ایک کردار ہے، جتنی بڑی شخصیت اس کا اتنا بڑا کردار، یہاں بھی اگر کردار مقصد کے بغیر ہوگا تو وہ بوجھ بن کر رہ جائے گا۔۔ جیسےعراق کے سابق صدر صدام حسین کا کردار اتنا تھا کہ وہ اتحادی افواج کے ساتھ لڑتے لڑتے شہید ہو جاتے۔۔ لیکن وہ زندہ رہے اور پھر دنیا نے دیکھا ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد افغان صدر ڈاکٹر نجیب نے اپنے خاندان کو ملک سے نکال دیا لیکن خود اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لے لی۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ اقوام متحدہ/ اقوام عالم انہیں بچائیں گی۔۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، طالبان نے انہیں چوراہے میں لٹکا دیا۔۔ ایک اور کردار ایڈولف ہٹلر کا بھی ہمارے سامنے ہے، جب دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو اس نے خودکشی کرلی۔ ذرہ سوچیں اگر صدام حسین اور ڈاکٹر نجیب کے برعکس ہٹلر زندہ رہتا اور پکڑے جاتے تو ان کے ساتھ کیا کیا ہوتا۔۔
سماج میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو وقت سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن اپنی لاش دفن ہونے یا جلائے جانے تک اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو برملا خودکشی کا اعلان بھی کر گذرتے ہیں لیکن اپنے کرتوتوں کے باوجود ایسا قدم اٹھانے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی۔
یہ سب باتیں ایک طرف لیکن روسو کہتا ہے کہ انسان پیدائش اور مرتے وقت روتا ہے۔۔ یہ اس کا احتجاج ہے۔ ۔ ۔کیونکہ اس سے نے پیدا کرتے وقت پوچھا جاتا ہے اور نہ ہی مرتے وقت

ٹیگز

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close