بااختیار خواتین حکومت پنجاب کا عزم | زرمینہ یوسف

بااختیار خواتین حکومت پنجاب کا عزم

زرمینہ یوسف

پائیدارملکی ترقی کے لیے مستحکم خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کوقومی دھارے میں شامل کرکے ہی ترقی کا خواب حقیقی روح کے ساتھ شرمندہئ تعبیر ہو سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں صوبہ پنجاب میں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے قانون سازی اور عملی اقدامات سے اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ صوبہ کی خواتین مضبوط، مستحکم، بااختیاراور خوشحال ہوں۔خواتین کو ہنر مند بنانے اور روزگار فراہم کرنے کے سلسلہ میں پیشہ وارانہ مہارتوں کی تربیت کے لیے مختلف پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے جن میں انھیں سلائی، کڑھائی اور کمپیوٹر کی تربیت دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دیہی خواتین کو زراعت کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے کے حوالے سے تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا ویژن ہے کہ خواتین کو تمام تر بنیادی حقوق اور باوقار روزگار کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے تاکہ خواتین با وقار اور مستحکم زندگی گزانے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس سلسلے میں حکومت پنجاب کی جانب سے خواتین کو سماجی اور معا شی طور پر خودمختار کے عزم کے تحت کئی پرو گرامز کا آغاز کیا گیا ہے۔ جن میں ڈے کئیر سنٹرز ایک ایسا قدم ہے جس سے مائیں بے فکر ہو کر اپنی دفتری ذمہ داریاں ادا کر سکیں گی۔ ورکنگ وومن ہوسٹلز سے خواتین میں تحفظ کے احساس کو یقینی بنایاگیا ہے اور خواتین رہائش کی پریشانی سے آزاد ہوگئی ہیں۔

خواتین کے حقوق کی فراہمی پروگرام کے تحت آن لائن ڈیجیٹل میگزین کا اجراء کیا جائے گا جو ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا جہاں عورت اپنی جدوجہد اور کامیابی کو شیئر کر سکے گی۔

اس سے ناصرف کامیاب خواتین کو ایک پہچان ملے گی بلکہ یہ میگزین نو جوان لڑکیوں کے لیے بھی تحریک کا باعث بنے گا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ایک اور اہم قدم پنجاب وومن ہیلپ لائن 1043 کا اجراء ہے۔ اس ہیلپ لائن پر نا صرف شکایات درج کروائی جا سکیں گی بلکہ خواتین سے متعلقہ جاری کردہ منصوبوں کے جوالے سے معلومات بھی حاصل کی سکتی ہیں۔
اسی طرح دختران پاکستان وژن 2020-21 کے تحت بھی کئی منصوبے جاری ہیں۔ جن میں پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب ہیومن کیپیٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت 53 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کا مقصد خواتین کی بہتر صحت اور معاشی خودمختاری ہے۔ اس کے تحت سرکاری مراکز صحت پر مفت طبی معائنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہیں۔لڑکیوں کے تمام سکولوں میں ہر سطح پر بلا تفریق ابتدائی تعلیم کا جدید نظام نافذ کیا جائے گا۔ ان تمام تر منصوبوں کا مقصد خواتین کو با وقار، مستحکم، با اختیار اور معاشی طور پر آزاد بنانا ہے۔ تاکہ وہ نا صرف اپنی، اپنے خاندان بلکہ ملکی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کرسکیں۔
وراثت کے حقوق کا حصول ایک ایسا مسئلہ تھا جس کے باعث کئی دہائیوں سے خواتین کا استحصال ہوتا آیا ہے۔ اب قانون سازی کے ذریعے خواتین کے اس بنیادی حق کے حصول کونا صرف یقینی بنایا گیا ہے بلکہ مزید آسانیاں بھی پیدا کی جارہی ہیں۔ ان میں ایک اہم قدم عدالتوں کے پیچیدہ نظام سے چھٹکارا ہے۔ خواتین اکثر مسائل کے حوالے سے خاتون محتسب کے سامنے اپنی شکایات درج کراسکتی ہیں۔

حکومت حقوق کے تحفظ اور آئین سازی کے حوالے سے سنجیدہ اور پائیدار اقدامات کر رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے خواتین کو نا صرف اپنے حقوق، بنائے گئے قوانین اور دی گئی سہولیات کے بارے میں علم ہو۔ بلکہ ضرورت پڑھنے پر ان قوانین اور سہولیات کا فائدہ بھی حاصل کریں۔

اور کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کے ملک کی خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام نا کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت معاشرہ بھی ان تمام حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔اگر پیشہ وارانہ مہارتوں کے پروگرامز کی تعداد میں اضافہ کردیا جائے اور ان میں جدید ٹیکنالوجی کے پروگراموں کو بھی شامل کر دیا جائے تو یہ ایک اہم سنگ میل ہوگا۔

اسی طرح جن دیہات / شہری علاقوں میں سکول میسر نہیں وہاں سکول قائم کر دیے جائیں اور پہلے سے موجود سکولوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے تو ہنر اور تعلیم دونوں دہلیز پرمیسر ہوں گے اور شہروں کی طرف نقل مکانی بھی کم ہو جائے گی اور اس سے خواتین کو بھرپور ریلیف حاصل ہوگا۔

Empowered Women Government of Punjab

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button