عمران خان کے پنجاب کے ساتھ کھلواڑ جاری | امداد سومرو

امداد سومرو

پنجاب کا ایک اور انسپیکٹر جنرل آف پولیس تبدیل۔۔ شعیب دستگیر کو ہٹا کر انعام غنی کو تعنیات کر دیا گیا۔ دو سال میں پانچ آئی جی پولیس اور اتنے ہی چیف سیکریٹریز۔۔ یہ ہے عمران خان کی گڈگورننس کا اعلیٰ نمونہ؟ حکومتیں تو ایسا نہیں کیا کرتیں؟ مگر ہاں جب حکومت ہائبرڈ ہو تو ایسے ہی چلا کرتی ہیں۔

اس طرح تو رجواڑے بھی نہیں چلائے جاتے ہوں گے جس طرح وزیر اعظم عمران خان ملک اور خاص طور پر ملک کے ساٹھ فیصد آبادی والے صوبے پنجاب کو چلا رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے پہلے پانچ سالہ دور حکومت کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ تھا اور ہے کہ انہوں نے وہاں پر پولیس میں اصلاحات کیں اور پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا۔ اس بنیاد پر عمران خان نے دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف اور اپنے حق میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک مہم برپا کئے رکھی۔ زمینی حقائق کیا تھے اور کیا ہیں نہ کبھی میڈیا سامنے لایا اور نہ کبھی اس پر سوال ہوا کہ وہ کون سی اصلاحات تھیں جو آپ نے کیں؟۔

مشرف دور میں شروع ہوئی دہشتگردی کی لہر سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان خیبر پختونخواہ پولیس کو ہوا تھا اور مشرف حکومت کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے یو ایس ایڈ کے ساتھ مل کر پولیس کو بحال کرنے، اس میں اصلاحات اور تربیت کا ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے ثمرات عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے ہی آنا شروع ہو گئے تھے مگر عمران خان اس کارنامے کا کریڈٹ لیتے رہے جو کبھی ان سے سرزد ہی نہیں ہوا۔ کیوں کہ عمران خان پروپیگنڈہ کے ماہر اور لاڈلے ہیں اس لئے ان کے دعووں پر کبھی سوال ہی نہیں اٹھایا گیا۔

جب عمران خان ملک کے وزیر اعظم بنے اور انتظامی حوالے سے ملک کے سب سے مستحکم صوبے پنجاب کی حکومت ملی تو ان کے دعووں کی قلعی کھلنے لگی۔ پولیس سے سیاسی مداخلت کے خاتمے کے دعویدار نے سب سے پہلے ڈی پی او پاک پتن کو ہٹایا ۔ اس کے بعد آگے پیچھے چھ آئی جی ہٹائے گئے، چیف سیکریٹریز تک چند چند ماہ کے بعد ہٹائے جاتے رہے۔

اب جو آئی جی شعیب دستگیر ہٹائے گئے ہیں اس کی وجہ حیران کن سے زیادہ انتہائی بھیانک ہے۔ جو واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں اس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آئی جی پنجاب سے صلاح مشورے کے بنا عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور تعنیات کیا اور انہوں نے اپنے جونیئر افسران اور فورس کو حکم دیا کہ وہ آئی جی کے احکامات نہ مانیں۔ آئی جی پنجاب سی سی پی او کی شکایت لے کر وزیراعظم عمران خان کے پاس گئے تو وزیر اعظم نے آئی جی کی فریاد تک سننے سے انکار کر دیا اور سی سی پی او کو تھپکی دی گئی۔ جس کے بعد آئی جی پنجاب نے عثمان بزدار سے ملاقات کر کے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے بجائے ڈسیپلن کی خلاف ورزی کرنے والے سی سی پی او کو ہٹانے کے آئی جی کو ہی ہٹا دیا۔ وزیر اعظم کے اس اقدام سے پنجاب پولیس میں شدید بے چینی کی خبریں ہیں اور حکومت کے اس اقدام کو ایک فورس کا ڈسیپلنڈ خراب کرنے اور پولیس کا اسٹرکچر توڑنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں کیا کیا ہوتا رہا وہ میڈیا کی آنکھ سے اوجھل رہتا تھا ویسے بھی ہمارا میڈیا چند شہروں تک محدود ہے اس لئے اس نے بھی کبھی یہ تردد نہیں کیا کہ خیبر پختونخواہ پولیس، تعلیم، صحت کے شعبوں میں اصلاحات کے عمران خان جو جو دعوے کرتے رہے ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے۔ مگر جب میڈیا کے فوکس میں رہنے والے صوبے پنجاب میں عمران خان کے کارنامے سامنے آنا شروع ہوئے تب سب کو سمجھ آنے لگ گئی کہ تحریک انصاف کی گورننس کیا ہے اور کیسے ملک چلا رہی ہے اور کیسے خیبر پختونخواہ کو گذشتہ سات برسوں سے چلاتی رہی۔

پنجاب کے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سارا کا سارا بنی گالہ یا وزیر اعظم ہائوس سے ہو رہا ہے، اس میں بارہ کروڑ کے صوبے کی منتخب حکومت کی مرضی یا منشا شامل ہوتی ہے اور نہ وزیر اعلیٰ کو کسی مشاورت میں بٹھایا جاتا ہے۔ آئی جی اور چیف سیکریٹریز تو وزیر اعظم خود لگاتے اور ہٹاتے رہتے ہیں، سی سی پی او لاہور سے لے کر تمام اضلاع کے پولیس اور انتظامیہ کے افسر تک یا تو بنی گالہ خود لگاتا ہے یا پھر بنی گالہ کسی اور کی سفارش پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت سے پوچھے بنا لگا دیتا ہے۔

کیوں کہ عثمان بزدار تو حقیقی معنی میں کٹھ پتلی ہیں اس لئے وہ بنی گالہ کے کسی بھی فیصلے سے اختلاف کرنے کا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ ویسے تو وزیر اعظم اور خود عثمان بزدار بھی کہہ چکے ہیں کو وہ ابھی ٹرینی ہیں اس لئے اب بھلا ایک ٹرینی سے کون مشاورت کرتا ہے۔ پنجاب کو تو چلا رہے ہیں عمران خان، پھر چاہے وہ این ایف سی سے صوبے کا چار سو تراسی ارب روپے کاٹ لیں یا پھر سی سی پی او لاہور تعینات کرتے اور پھر سی سی پی او لاہور کو بچانے کیلئے آئی جی کو ہٹانے تک کا بھی فیصلہ کیوں نہ ہو۔ بزدار صاحب کو میڈیا سے پتا لگتا ہے اور وہ اس بات کا خوش ہو کر فیصلہ قبول کر لیتے ہیں کہ شکر ہے آئی جی کی تبدیلی کا فیصلہ ہوا ہے وزیر اعلیٰ کا نہیں۔

آج تک

ٹیگز

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close