پاکستان میں 50 ملین افراد کو آف گرڈ اور کمزور گرڈ علاقوں میں توانائی تک رسائی نہیں ہے

رحیم یار خان:ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی ترقی کی وجہ سے توانائی کی طلب روز بروز بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کافی ہے لیکن لائن لاسز، سسٹم کی خرابیوں اور بلنگ میں واپسی کی کم شرح کی وجہ سے، 50 ملین افراد کو آف گرڈ اور کمزور گرڈ علاقوں میں توانائی تک رسائی نہیں ہے یا کم رسائی ہے جس  کی وجہ سے توانائی کے تحفظ کو کئی  مشکلات   کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کے ہوا اور شمسی توانائی کے سستے اور صاف توانائی کے ذرائع پر انحصار دیے گئے حالات میں ایک موثر اور کم خرچ حل ہوگا۔

ان خیالات کا اظہارگرو گرین نیٹ ورک  کی ممبر تنظیم آئی پی ڑی پی ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے توانائی کے عالمی دن کے موقع پر  منعقدہ گرین ریلی  کے شرکاء نے کیا ۔ شرکاء نے بینرز، پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور پاکستان میں صاف توانائی کو فروغ دینے کے ذریعے توانائی کی بچت کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی ڈی پی ویلفیئر آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ رخسانہ مبارک ،پروگرام اآفیسر فرزانہ مبارک، اسد علی، محمد ذیشان، ملک پرویز، نجیب مہر اور ملک مجید کہا کے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے جرمن  واچ کی جانب سے پانچویں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ملک  کے طور پے قرار دیا گیا ہے

جس کی وجہ سے موسمیاتی  تبدیلی  سے پیدا ہونے والی آفات ہیں جو مستقبل میں پاکستان کو متاثر کریں گی۔
موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات زراعت کے شعبے پر پڑیں گے کیونکہ فصلوں کے لیے پانی کی عدم دستیابی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرے گی جس سے غذائی عدم تحفظ کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
اس صورتحال کا واحد حل حکومت، نجی شعبے اور کمیونٹیز کی طرف سے موافقت اور تخفیف کے اقدامات اٹھانا ہے۔ فوسیل فیول پر مبنی  توانائی سے ہوا اور شمسی توانائی کے صاف ذرائع کی طرف منتقل ہونے سے پاکستان کی آب و ہوا کے خطرات میں کمی آئے گی اور ملک خود کفیل اور لچکدار ہو جائے گا”۔
2019 کے پالیسی  کے  اہداف جن میں پاکستان کے مجموعی توانائی مکس میں قابل تجدید توانائی کا 30 فیصد حصہ شامل ہے جو کہ 2030 تک پیرس موسمیاتی معاہدے کے ممالک کے وعدوں کو پورا کر سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان  چھوٹے بزنس مین  اور  انویسٹر  کو اسٹیمحترمہٹ بینک کی بھی فنانسنگ اسکیم برائے قابل تجدید توانائی” کے تحت قرضہ فراہم کر رہا ہے لیکن معلومات کی کمی اور ون ونڈو آپریشن کی عدم  دستیابی،  کے سبب بہت محدود  صارفین نے اسکیم تک رسائی حاصل کی ہے۔
گرین واک کے شرکاء نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ARE پالیسی 2019، نیشنل ڈیٹرمینڈ کنٹری بیوشن (NDCs) 2021 اور پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ کے قومی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے سولر پی وی اور الیکٹرک وہیکلز پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
شرکاء نے کلین اینڈ گرین پاکستان کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے لیے ضلع میں ایک ہفتے کے لیے شجرکاری مہم کا آغاز کیا ۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button