نواز میمن بھی گذر گئے | کوی شنکر

کوی شنکر

نوازعلی میمن اور میرا تعلق ایک ہی ضلع سے ہونے کے باوجود ہماری پہلی ملاقات دو ہزار پانچ میں ہوئی۔۔ اس وقت میں خبرین گروپ کے سندھی اخبار خبروں میں کام کرتا تھا۔۔ اخبار کی انتظامیہ سے پالیسی اختلافات پر پوری ٹیم اجتماعی طور پر مستعفی ہوگئی تھی۔۔ استعفیٰ کے بعد بے روزگاری کا دور شروع ہوا۔۔ نوازمیمن ان دنوں ہلال پاکستان اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے۔۔ انہوں نے مجھے اخبار میں ملازمت دی۔۔

نوازعلی میمن
نوازعلی میمن

نواز میمن کی ایڈیٹرشپ کے دوران ہلال پاکستان ورکر دوست اخبار رہی، وہاں یکم تاریخ کو تنخواہ ملنے کے ساتھ ایڈوانس کی بھی سہولت دستیاب تھی۔ انہوں نے اخبار کے مالی حالات کوکافی حد تک بہتر کردیا تھا۔ اخبار کے ساتھ میرا یہ تعلق تو مختصر رہا لیکن ان کے ساتھ دوستی آخر رک جاری رہی۔۔
نواز میمن کا شمار ٹھٹھہ کے اوائلی صحافیوں میں ہوتا تھا اور وہ پریس کلب ٹھٹھہ کے بانی رکن تھے۔۔ انہوں نے جب صحافت شروع کی تب پوسٹ اور پرانے زمانے کا مواصلاتی نظام تھا۔۔ جس میں فون کال بک کروائی جاتی تھی۔۔
ایم آر ڈی موومینٹ کے دوران ٹھٹھہ نے سندھ کی قیادت کی تھی۔۔ بقول ان کے ‘‘بے نظیر بھٹو، رسول بخش پلیجو، فاضل راہو سمیت ساری قیادت جیل میں تھی، سندھیانی تحریک کی خواتین متحرک تھیں۔۔ مختلف شہروں میں مظاہرے ہوتے تھے، ان کی خبریں ڈرائیوروں اور پھیری والوں کے ذریعے منگوا کر فون پر ہیڈ آفس میں لکھوائی جاتی تھی، اگلے دن اخبار میں خبر چھپتی تھی، ضلعی انتظامیہ کی سختی کے باوجود میں خبریں ادارے کو بھیج دیتا تھا۔ ’’
ٹھٹھہ کی میمن برادری کا شروع سے ہی جھکاؤ پیپلزپارٹی کی طرف تھا۔ نواز میمن کا ذوالفقار علی بھٹو سے قریبی تعلق تھا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہی قائم کردہ اخبار ہلال پاکستان میں ضلعی رپورٹر رہے اور بعد ازاں وہ چیف ایڈیٹرمقرر ہوئے۔۔
ان کو پیشہ ورانہ قابلیت ، ملکی اور صوبائی اشوز پر غیر معمولی رپورٹنگ کرنے کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ہنس مکھ نواز میمن کے ساتھ بات چیت میں کسی کو کبھی بوریت نہیں ہوتی تھی، ان کے پاس موقع کی مناسبت سے بے شمار لطیفے تھے۔ تنزو مزاح سے بھرپورشخصیت کے مالک نواز میمن نے ایک عمر گذاری تھی، زمانہ ساز شخصیت تھے اور وہ لوگوں کے مزاج کے ساتھ ان کی نفسیات کو بھی جانتے تھے۔۔
ہماری کراچی کے ساتھ ٹھٹھہ میں ملاقاتیں رہیں، اگر ملاقات نہ ہوتی تو فون پر رابطے میں رہتے تھے۔۔۔ فیس بوک کے ذریعے بھی ہم جڑے ہوئے تھے۔۔ نواز میمن سے گفتگو میں ٹھٹھہ کے سیاسی اور سماجی حالات کے ساتھ وہاں کے دوستوں کا حال احوال بھی مل جاتا تھا۔۔
کئی بار ٹھٹھہ سے کراچی کا سفر ساتھ طے کیا۔۔ ملیر کے مشہور ہوٹل جیونی کا کھانا ساتھ کھایا اور وہیں بلوچ کیبن والے کے پان چبائے۔
نواز میمن کا کبھی بھی فون آجاتا، خاص طور پر رات میں۔۔ کیونکہ صحافی دیر تک جاگتے ہیں۔۔۔ وہ جانتے تھے اور بات چیت کی ساتھ ان کی منفرد ہنسی گونج جاتی تھی۔
نواز میمن سے میری آخری ملاقات کورونا وبا سے پہلے ہوئی تھی۔۔ ہم مکلی پر ڈان نیوز کے رپورٹرغلام حسین خواجہ کے آفس میں ملے تھے۔۔ طبعیت کی ناسازی کے باوجود وہ وہاں آئے اور دیر تک باتیں کیں۔۔ ان کی موجودگی میں سب کے چہروں پر مسکراہٹین بکھر جاتیں۔
نواز میمن بیمار تھے، چہرے سے کمزوری عیاں تھی لیکن وہ گفتگو میں جوان تھے۔۔

نواز کو بھلایا نہیں جا سکتا ، ان کی ہنسی آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے، وہ ہمیشہ دوستوں کے دلوں میں موجود رہیں گے۔۔

ٹیگز

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close