خبریں، وارداتیں، ملاکھڑے اور گانا | حیدر جاوید سید

حیدر جاوید سید

عید قربان گزر گئی تین چھٹیوں کے دوران بہت ساری خبروں کے ساتھ وارداتیں اور ملاکھڑے ہوئے۔ اسی دوران آئی ایس پی آر نے مسئلہ کشیمر اُجاگر کرنے کے لئے ایک گانا ریلیز کیا اور وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے کشمیر ہائی وے کا نام بدل کر”شاہراہ سرینگر”رکھ دیا۔
بورڈ نصب کر دیئے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے گانے اور سرینگر روڈ پر سامنے آنے والی آرا سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ سوچنے والوں کے خلاف حب الوطنی کی دو دھاری تلوار سے ایک لشکر اپنے اقدامات میں مصروف ہے۔
درمیان میں ناقدین کے لئے طعنہ ہے کہ ملک چھوڑ کر چلے جائو، اللہ کی شان ہے کہ ماضی کے حملہ آوروں کی اولاد زمین زادوں کو کہتی ہے ہماری ہاں سے ہاں ملاؤ ورنہ ملک چھوڑ دو۔
فاتحین کی قبضہ گیری والی سوچ نہیں بدلی صدیاں گزر جانے کے باوجود، جس بنیادی بات کو نظر انداز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ سول ملٹری قیادت کو چاہیئے کہ وہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس میں آکر یہ بتائیں کہ
”پچھلے برس کے دورہ امریکہ (وائٹ ہائوس وپینٹاگون) کے دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا طے پایا تھا”
جب تک یہ واضع نہیں ہوجاتا سوال ہوتے رہیں گے اگر کوئی جواب نہیں دیتا تو سوال پر بُرا منانے کی ضرورت بھی نہیں ۔
کشمیری عوام کو ان کی جدوجہد کا ثمر ملنا چاہیئے یہ ان کا پیدائشی حق ہے البتہ یہ سوال اہم ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بعد کے برصغیر کے نقشہ میں تبدیلی کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق نہ ہوئی تو بگاڑ کا پھیلاو بڑھے گا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کی جگہ وزیر اعظم نے مشیر صحت کے طور پر ڈاکٹر فیصل سلطان کو مقرر کیا ہے۔
ڈاکٹر فیصل شوکت خانم ہسپتال کے سی ای او ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے ذاتی دوست اور مدد گار ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت کے پیش نظر ہی انہیں مشیر صحت بنایا گیا قبل ازیں وہ کورونا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔
ان کی تقرری بہر طور وزیر اعظم کا صوابدیدی حق ہے۔
بس پچھلے ادوار کے وزرائے اعظم کی جانب سے ایسی تقرریاں اقربا پروری اور ملک دشمنی قرار پاتی تھیں۔
بہر طور ڈاکٹر فیصل سلطان عالمی شہرت کے حامل طبیب ہیں امید کی جانی چاہیئے کہ وہ وزارت صحت کے لئے بہترین انتخاب ثابت ہوں گے۔
البتہ یہ جو وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل ونگ میں تحریک انصاف کے 6 عدد سوشل میڈیا مجاہدین اعلیٰ منصبوں پر بھرتی ہوئے ہیں اس حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات پر ناک چڑھانے یا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
پچھلے دور میں مریم نواز کی نگرانی میں ایک خصوصی میڈیا سیل قائم تھا اس کی تنخواہیں سرکار کے خزانے سے طریقہ کار کے مطابق تو ادا نہیں ہوتی تھیں لیکن تنخواہوں کے لئے رقم جمع کرنے کا جو طریقہ اپنایا گیا تھا اُسے ہم سبھی بھتہ خوری کہا کرتے تھے۔
اب اُس طرح کی باتوں اور الزامات سے بچنے کے لئے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کے 6 مردوزن کو بھاری بھر کم تنخواہوں پر وزارت اطلاعات کا حصہ بنا لیا گیا۔
سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو ملازمتیں دیں یہ کوئی بُری بات نہیں لیکن ایک ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت کے ہی ایک حکم کے تحت وفاقی وزارتوں میں سال ڈیڑھ سال سے خالی ہزاروں اسامیوں پر نئی بھرتی کرنے کی بجائے ان اسامیوں کو بچت پروگرام کے تحت ختم ہی کر دیا گیا ہو حکمران جماعت کے 6 کارکنوں کی بھاری بھر کم تنخواہوں پر بھرتی غیر منصفانہ ہے۔
گندم بحران پر وفاق اور سندھ ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سوموار کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا
”مہنگے آٹا کی ذمہ داری سندھ حکومت ہے گورنر راج کی بات سے پہلے اپنی روش بدلے”
یہاں اپنے پڑھنے والوں کو ایک دلچسپ بات بتانا ضروری ہے وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی سید فخر امام نے دس پندرہ دن قبل انکشاف کیا تھا کہ حکومت نے خریدی تو 66 لاکھ ٹن گندم تھی، موجودہ 60 لاکھ ہے 6 لاکھ ٹن گندم کہاں گئی۔ انہوں نے سوموار کو پھر بتایا کہ 66 لاکھ ٹن گندم خریدی گئی۔
بہت ادب کے ساتھ سید فخر امام کی خدمت میں یہ عرض کرنا پڑے گا حضور سندھ حکومت پر تو بات بعد میں کریں گے پہلے6لاکھ ٹن گندم بارے تو بتائیں وہ کہاں گئی

کیا 60 کو 66 بتا کر پیش کیا گیا کاغذوں میں؟
ایسا ہے تو 6 لاکھ ٹن گندم کی قیمت کس کی جیب میں گئی؟
سندھ حکومت یا کسی بھی دوسرے صوبے کو اپنا سٹاک ریلیز کرنے کے لئے کہنے سے قبل اربوں روپے کی اس ڈکیتی کے مرتکب تو سامنے لائیں۔
جہاں تک سندھ میں گورنر راج کی بات پہنچنے والی ہلکی پھلکی دھمکی کا تعلق ہے تو یہ بلاوجہ نہیں وزیراطلاعات کے منہ سے وہ بات نکل گئی جس پر ہفتہ دس دن قبل وفاقی کابینہ میں مشاورت ہوچکی۔
شبلی فراز چونکہ ابھی”سیاسی مہارت” سے کورے ہیں اس لئے جذبات میں انہوں نے وہ بات کہہ دی جس کے لیے اس منصوبے پر پر عمل کے لئے وزیراعظم کے ایک مشیر بابر اعوان کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے کہ وہ سندھ میں وفاق کی آئین کے آرٹیکل149کے تحت کارروائی کے لئے”مقدمہ” تیار کریں۔
آخری بات یہ ہے کہ حبس بڑھ رہا ہے۔
اب تو بات کرتے اور لکھتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہے سٹریٹ جسٹس کا بناماحول ہمیں کہاں لیجا کھڑا کرے یہ سوچ کر ہی انسان لرز جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر تنگ نظری تعصبات اور سٹریٹ جسٹس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ ان بعض اقدامات پر ڈر کے مارے کوئی بات نہ کرے جن کی وجہ سے آنے والے ماہ وسال کے دوران ریاست کی گرفت مزید سخت ہو جائے گی۔
مثال کے طور پر یکساں تعلیمی نصاب کے معاملے کو ہی لے لیجئے۔
وفاقی حکومت اس حوالے سے اہل دانش اور ماہرین تعلیم کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ایک مخصوص فہم کے لوگوں سے اس حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں جس سے یہ تاثر پختہ ہورہا ہے یکساں تعلیمی نصاب نئے مسائل تضادات اور نفرتوں کے دروازے کھولنے میں معاون بنے گا۔

آج تک

ٹیگز

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close