یوم تجدید عہد وفا،قومی ذمہ داریاں | عبدالتواب خان

عبدالتواب خان
یوم تجدید عہد وفا،قومی ذمہ داریاں؟۔
وطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے، اپنی زندگی کے شب وروز گزارتاہے، جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں، جہاں اسکے دوستوں، والدین اور بزرگوں کا پیار پایا جاتا ہے۔ وہ سر زمین اس کا اپنا گھر کہلاتی ہے۔ وہاں کے گلی کوچے، درودیوار، میدان،پہاڑ، گھاٹیاں، چٹان، پانی اور ہوائیں غرضیکہ وہاں کی ہر ایک شے سے اس کی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔
زندہ قومیں اپنے قومی تہوار بڑی دھوم دھام سے مناتی ہیں بلاشبہ ہم زندہ قوم ہیں اور ہر سال23مارچ یوم قرارداد پاکستان بھر پور انداز سے مناتے ہیں۔
امسال مارچ کی 23 کو یوم پاکستان بھر پور انداز میں منانے کے سلسلے میں شکر پڑیاں کے گرونڈ میں پاکستان کی سول وآرمڈ فورسز کی جانب سے خاص پریڈ کا اہتمام کیاگیا۔

تقریب میں صدر پاکستان عارف علوی،وزیراعظم پاکستان عمران خان،چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اوآئی سی کے مندوبین نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مہمانوں کی خصوصی شرکت نے پاکستانی قوم کی خوشیوں اور جذبوں کو چار چاند لگا دیئے۔
تقریب کے ابتدائی مراحل میں افواجِ پاکستان کے جانباز مجاہد ائرچیف مارشل ظہیر احمد بابر نے ایف16 لڑاکا طیارے سے تقریب میں موجود مہمانوں اور اقوام عالم کو پاکستان کی ہرلمحہ ہر لحاظ ہر محاذ سے حفاظت اور سلامتی کا پیغام دیا۔تقریب میں مسلح افواج کے دستوں کی شاندار پریڈ میں افواجِ پاکستان کی مہارت، حوصلہ، جذبہء حُب الوطنی اور بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔تقریب میں افواجِ پاکستان کے بیڑے میں موجود ملکی سا  لمیت کیلئے استعمال میں آنے والے مقامی سطح پر تیار پاکستانی اسلحہ کی نمائش کی گئی، زمینی، فضائی، بری بحری طاقتوں کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔
پاکستان اور ترکی کے ہوا بازوں کی طرف سے شاندار فضائی مہارت کا مظاہرہ کیاگیا۔پاکستان، سعودی عرب، بحرین، آذربائیجان اور اذبکستان کے پیرا ٹروپر کا فضاء میں قومی پرچم تھامے پیراشوٹ سے شاندار مظاہرہ عوام الناس اور خصوصی مہمانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
پانچوں صوبوں کے علاقائی اور ثقافتی رنگوں، تہذیبوں سے سجے شاندار فلوٹس کے ذریعے مہمانوں کو تمام صوبوں کی ثقافت سے روشناس کروایا گیا۔یوم پاکستان کی مناسبت سے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق پنجاب بھر میں یوم پاکستان کے سلسلے میں پروقار تقریبات کا اہتمام کیاگیا۔حکومت پنجاب کی جانب سے یوم پاکستان کے سلسلے میں پنجاب بھر کی جیلوں میں تقریبات کا انعقاد اور اسیران میں مٹھائیاں اور تحائف تقسیم کیے گئے۔
پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔یوم پاکستان اس قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 23مارچ1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کیلیے علیحدہ وطن کے حصول کیلیے منظور کی گئی.یہ دن مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے تصور پاکستان کی جانب انتہائی اہم قدم تھا۔ ہندوؤں کے تشدد اور انگریز کے متعصبانہ رویوں نے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کے حصول کے لیے مجبور کر دیا تھا۔
23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک میں قرارداد لاہور پیش کی گئی تھی، جسے قرارداد پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس دن آل انڈیا مسلم لیگ نے اے کے فضل حق کی پیش کردہ قرارداد منظور کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ اب متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندؤں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے۔ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور تو علامہ محمد اقبال نے پیش کیا تھا، لیکن آل انڈیا مسلم لیگ نے اس قرارداد کو منظور کرکے علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا، جو 7 سال بعد قیام پاکستان کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہوا۔ قائداعظم کا حصول مقصد جو 74 سال گزرنے کے بعد بھی پورا نہیں ہوا۔
آج پاکستان کرپشن، دہشت گردی، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ وطن عزیز کے مخالفین پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔
در پیش صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ آج ہم یوم پاکستان کے موقع پر بطور ایک قوم اپنی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیں اور اپنی منزل کا ازسر نو تعین کریں۔ اس امر کا جائزہ لینا ہو گا کہ اپنی قومی زندگی کے سفر میں ہم کہاں بھٹکے تھے اور کون سی راہ اختیار کریں تو اپنی کھوئی ہوئی منزل کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں جب تک قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی حکمرانی نہیں ہو گی اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو گا  ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ اس وقت ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہم سب کو اپنے اختلافات بھلا کر ملک کی سا  لمیت  اور ترقی کے لئے کام کرنا ہو گا۔ پاکستان کو جنوبی ایشیا کا ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانے کے لئے ضروری ہے کہ فرقہ واریت اور جہالت کو ختم کرکے قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے تاکہ پاکستان اپنے قیام کے مقاصد حاصل کر سکے اگر ہم قرآن و سنت کو اپنے لئے سپریم قانون بنا لیں تو پاکستان قائداعظم کے تصور اور ان کی سوچ کے مطابق بن سکتا ہے۔ قیام پاکستان کے لئے بیش قیمت قربانیاں دی گئیں اور اسے دو قومی نظرئیے(ہندو و مسلم) کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا لیکن اب کچھ لوگ بیرونی طاقتوں کے ایما پر اسے سیکولر بنانا چاہتے ہیں۔
23 مارچ تجدید عہد وفا کا دن، مسلمانان پاک و ہند کے نصب العین کے تعین کا دن، ہماری قومی تاریخ کا اہم سنگ میل کا دن، جدوجہد آزادی کے اہم ترین موڑ کا دن، جس دن ہم نے اپنا نصب العین طے کیا تھاکہ ہم اپنی زندگیوں کو ایک الگ وطن جس میں ہم اللہ کی کتاب قرآن مجید کے مطابق آزادانہ گزاریں گے اور دشمن کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔اسؤہ حسنہ کو اپنا رہنما بنائیں گے الگ وطن پاکستان حاصل کر کے دم لیں گے۔ ہندوستان اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کی آنکھیں نوچ لیں گے۔ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں گے اور اسلام کی شمع روشن رکھیں گے۔ قرارداد لاہور آل انڈیامسلم لیگ کا ستائیسواں اجلاس جس میں قائداعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک منزل کی راہ دکھائی۔ اس اجلاس میں مسلمانوں نے نہ صرف الگ وطن کا مطالبہ کیا بلکہ ہندو اور انگریز کی مکاری کونا کام کردیا 23 مارچ 1940 کو اپنا نصب العین طے کرنے کے بعد 7 سال کے اندر اندر ہم نے رام راج کا خواب چکنا چور کر دیا اور آگ اور خون کا دریا پار کر کے ہم آزاد فضاؤں کے باسی بن گئے اور دنیا کو دکھا دیا کہ ہم کل بھی اسلام کے سپاہی تھے اور آج بھی رہیں گے۔ ہم ایٹمی طاقت بن چکے ہیں اور ترقی یافتہ پاکستان بن کر دکھائیں گے۔ایک بار پھر دنیا حیرت سے دانتوں میں انگلیاں دبانے پر مجبور ہو جائے گی۔
23 مارچ کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیم کو عام کریں گے سخت محنت کریں گے اور اپنی ذات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں گے۔
دل و جان سے بھی بڑھ کر مثبت سوچ کی آبیاری کریں گے آپس کے جھگڑوں فرقہ بندی صوبائی تعصب کو بھول کر پاکستان کو خوشحال اور مضبوط پاکستان بنانے کے لئے قائداعظم کے زریں حصول کام کام اور صرف کام کریں گے۔
اتحاد ا،یمان اور تنظیم کی عملی مثال بنیں گے۔
باہمی تنازعات فرقہ بندیاں صوبائی اور علاقائی تعصب کو بھلاکر خوشحال اور مستحکم اسلامی فلاحی ریاست پاکستان کے لیے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمارا پیارا وطن پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شکل میں معرض وجود میں آیا لہٰذا یہاں پر اسلامی قوانین کا نفاذ اور صحیح معنوں میں مدینہ جیسی  فلاحی ریاست بنانا ہوگی۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button