ہندو نظریے سمیت قوم پرست نظریات ,ایکشن پلان کا مسودہ سلامتی کونسل میں پیش کر دیا

نیویارک(آج تک)پاکستان نے عالمی امن کے لیے نئے خطرات کا باعث بننے والے پرتشدد ہندو نظریے سمیت قوم پرست نظریات کے باعث تشدد میں حالیہ اضافے کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایکشن پلان کا مسودہ پیش کر دیا۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں اپنے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کے بعد 20 سالوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون کے جائزہ سے بارے 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ تشدد کے حامی انتہا پسند گروہوں سے علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے واضح اور موجودہ خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں جمع کرائے گئے ایکشن پلان کے مسودے میں کہا کہ سلامتی کونسل دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرح انتہا پسند تنظیموں کو بھی کالعدم قرار دے کیونکہ پرتشدد نسل پرست اور انتہا پسند دہشت گردی ناگزیر طور پر تشدد کی روک تھام میں رکاوٹ حائل کرے گی اور داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ناانصافی، تشدد یا دہشت گردی کے بیانیہ کے باعث انتہائی خراب حالات کی توثیق کرے گی۔

انہوں نے بھارت میں نیو فاشٹ گروہوں کی حکمرانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی( بے جے پی) اور اس کی دائیں بازو کی عسکریت پسند تنظیم آر ایس ایس کے ہندوتوا کے حامل پرتشدد انتہا پسند نظریے پر عملدرآمد سے بھارت میں مقیم 18 کروڑ مسلمانوں کی بقا کو خطرہ ہے اور اپریل 2020 دہلی پروگرام اس نظریے کا مظہر ہے اور بین الاقوامی مبصرین نے بھارت کے غیرقانونی تسلط میں کشمیر میں اور بھارت میں مقیم مسلمانوں کے خلاف ممکنہ نسل کشی سے بھارت کو خبردار کیا ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ پرتشدد قوم پرستی میں اضافہ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ سفید فام نسل کے بالاتر ہونے کے تصورکے حامیوں، نسلی گروہوں ، ہندوتوا نظریے کے حامل عسکریت پسندوں سمیت پرتشدد قوم پرست گروہوں کی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا جائے

جس طرح ہم نے القاعدہ اور داعش اور ان سے وابستہ گروہوں کے معاملے میں کیا ہے نیز ان پرتشدد نظریات کی تشہیر ، اور ان گروہوں کی مالی اعانت کو روکنے کے لئے فوری طور پر مقمی سطح پر اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ دہشت گرد اور پرتشدد انتہا پسند نظریوں کی روک تھام کے لیے پلان آف ایکشن پیش کریں اور بھارتی عسکریت پسند تنظیم آر ایس ایس کی طرح دیگر دہشت گرد ارو انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد کرنے ولای کمیٹی کے مینڈیٹ میں توسیع کریں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں پاکستان سب سے آگے رہا اور اس دوران پاکستان کو بیرونی طور پر امداد اور مالی معاونت کی جانے والی دہشت گردی کا سامنا رہا اور بھارت نے اپنے کرائے کی دہشت گرد تنظیموں کے زریعے اس دہشت گردی کی مالی مدد اور اعانت کی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہو گا جب تک اس کی بنیادی وجوہات غیرملکی قبضے، مداخلت، سیاسی اور معاشی ناانصافی اور عدم مساوات کو ختم نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی تسلط میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج جنگی جرائم ، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے اور کشمیریوں کو دہشت گردی کا ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے اس لیے ریاستی دہشت گردی کے رجحان کو روکنے کی بھی اشد ضرورت ہے اور ریاستی دہشت گردی پر فوری اور موثر طریقے سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر صورت اور دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے لاحق نئے خطرات کے پیش نظر ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کی حکمت عملی کے دائرہ کار کو بڑھانا اور تعاون کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں