کہانی دو دن کی

کہانی دو دن کی

تحریر: ریاض الحق بھٹی [email protected]

الحمد للہ رب العالمین!
میں نے اپنے کیرئیر کا طویل ترین دورانیہ جو چھتیس سال چار ماہ اور دس دن پر مشتمل تھا، آج سے آٹھ روز قبل، آٹھ جنوری بروز جمعۃ المبارک سال 2021ء مکمل کر لیا ہے، جس کا آغاز تیس اگست سن انیس صد چراسی میں بروز جمعرات جسے عربی اور سرائیکی میں خمیس بھی کہتے ہیں ہوا تھا۔
اس ہوش و خرد کی دنیا میں کیا کیا کہرام برپا ہوئے، کیا کیا نشیب و فراز آئے، کیسے طویل گرم دن اور کیسی یخ بستہ راتیں تھیں، آپ میں سے اکثر نے بھی بتائی ہوں گی۔بس اب اتنا ہی یاد ہے کہ یہ کہانی جمعرات سے شروع ہوئی اور جمعہ پر ختم ہو گئی، یعنی کہانی دو دن کی۔
صد شکر اپنے مہربان ساتھیوں کا جنہوں نے غیر معمولی انداز میں نہایت خوبصورت ”تقریب وداع“ کا اہتمام کیا جس میں میرے بزرگ میاں غلام رسول عباسی نے ملتان سے تشریف لا کر، احباب جھنگ پروفیسر حافظ عبد العزیز، کمانڈر حفیظ وڑائچ اور شہادت بھٹی کی نمائندگی کا خوشگوار فریضہ سرانجام دیا۔
مقامی ساتھیوں میں موجودہ ڈائریکٹر تعلقات عامہ ناصر حمید، ڈپٹی ڈائریکٹر عابد حسن رضوی اور نعمان مسعود خان سمیت اکاؤنٹس آفیسر جام غلام اصغر، پبلک ریلیشنز سوسائٹی آف پاکستان کے بانی و سربراہ ڈاکٹر نسیم ندیم، ایڈمن انچارج فضل محمود اور رحیم یار خاں کے ضلعی افسر اطلاعات اسداللہ شہزاد، لیہ سے پبلسٹی آفیسر ذہین خاں، ملتان سے سپرنٹنڈنٹ محمد ندیم، راجن پور سے حافظ صفدر اور شہزاد گل جبکہ نہایت محترم سابق ڈائریکٹر اطلاعات اعجاز احمد غوری ڈیرہ غازیخاں سے عبد اللہ خاں کے ساتھ شریک ہوئے۔

اسی طرح ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ جیل لودھراں باکمال شاعر اور انسان دوست و علم پرور ساتھی اختر اقبال بھی باجماعت تشریف لائے۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی نمائندگی ڈائریکٹر تعلقات عامہ شہزاد احمد خالد نے کی۔ پریس کلب کے سابق صدر نصیر احمد ناصر اور موجودہ صدر ہمایوں گلزار، جنرل سیکرٹری چوہدری سلیم اور مدیر حقیقت سعید احمد کی آمد باعث اعزاز ٹھہری جنہوں نے پھول، تحائف اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔ اس محفل میں ماضی میں ریٹائر ہونے والے ملک اللہ ڈتہ اور راؤ امام دین بھی موجود تھے۔ صحافت کا مان راؤشمیم اصغر کی پربہار شخصیت نے ملتان سے آکر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہمارا مان بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام احباب کو بہترین زندگی عطا فرمائے، خوشیاں دے اور ان کی عزت میں اضافہ بخشے، یہ بھی دو دن کی کہانی کا حصہ ہے۔
آٹھ جنوری کے بعد چودہ جنوری کو بروز جمعرات دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ہر دلعزیز وائس چانسلر پروفیسر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب نے نہایت محبت و اعزاز کے ساتھ یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں فیئرویل لنچ کا اہتمام کیا۔ اس محبت آمیز ظہرانہ میں علم و ادب کے روشن ستارے تابش الوری اور پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی نے خلوص کے گلابوں کو مزید معطر کر دیا۔ میڈیا کی سرکردہ شخصیات اور محکمہ تعلقات عامہ کے سرگرم اراکین اپنے نئے سربراہ ناصر حمید کے ہمراہ خلوص و محبت کا جہاں سجانے آئے۔ ایسی باوقار تقریب کا اہتمام کرنے پر جناب وائس چانسلر اور ان کی مؤثر رابطہ کار ٹیم کے قائد شہزاد احمد خالد و رفقاء کے تشکر کے پھول جبکہ رحیم یار خاں سے سینئر صحافی جناب جاوید اقبال جو ایک نہایت معتبر حوالہ ہیں اورساتھی نوجوان ڈاکٹر رانا راشد، میرے دل کے چین ولی عہد برخوردار زوہیب علی بھٹی اور راحت جاں صاحبزادی محقق عطاء الٰہی نے میری نصف درجن اولاد جن میں عائشہ بتول، شان بتول، صدف مدنیہ اور خوش بخت شامل ہیں کی نمائندگی کی۔ یہ یادگار تقریب جس میں یادگاری سوینئر، پھول اور تحائف راقم کو عطا ہوئے زندگی بھر یاد رہے گی۔یہ ایک جھلک ہے اس بے مثال استادالاساتذہ ڈاکٹر اطہر محبوب کی جنہوں نے فرید دھرتی کے لق و دق صحرا میں علم و آگہی کے صدا بہار پودے اگا دیئے ہیں جو بتدریج تناور ہونے کو ہیں۔ جامعہ اسلامیہ کی ترقی کا سبک رفتار سفر نئی منزلیں پانے کو ہے اور یہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں سمیٹتے ہوئے تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، یہ بھی دو دن کی کہانی کا ایک ورق ہے۔
احباب نے پوچھا کہ اتنی طویل اور کامیاب کیرئیر اننگز مکمل کرنے کے بعد کیا کرنے کے ارادے ہیں تو ہم نے عرض کیا کہ:
کرنے کو بہت کچھ تھا لیکن، یہی طے پایا
ہم اہل محبت ہیں،  محبت ہی کریں گے
اس پیغام کو گزارش کے ساتھ عرض کیا گیا کہ یہ سلسلہ نہ صرف ہمارے سماج بلکہ دنیا کی امن و سلامتی کے لئے جاری رکھیں اور معروضی حالات سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں بلکہ جب بھی فطری تقاضوں کے تحت مایوسی گھیرنے لگے تواپنے رب سے گفتگو کریں۔

جو تم مایوس ہو جاؤ
تو رب سے گفتگو کرنا
وفاکی آرزو کرنا
سفر کی جستجو کرنا
یہ اکثر ہو بھی جاتا ہے
کہ کوئی کھو بھی جاتا ہے
مقدر کو برا جانو گے
تو یہ ہو بھی جاتا ہے
اگر تم حوصلہ رکھو
وفا کا سلسلہ رکھو
تو میں دعوے سے کہتا ہوں
کبھی بھی ناکام نہ ہو گے
کبھی مایوس مت ہونا
وہاں انصاف کی چکی
ذرا دھیرے سے چلتی ہے
مگر چکی کے پاٹوں میں
بہت باریک پستا ہے
تمہارے ایک کا بدلہ
وہاں ستر سے زیادہ ہے
نیت تلتی ہے پلڑوں میں
عمل ناپے نہیں جاتے
وہاں جو ہاتھ اٹھتے ہیں
کبھی خالی نہیں آتے
ذرا سی دیر لگتی ہے
مگر وہ دے کے رہتا ہے
جو تم مایوس ہو جاؤ
تو رب سے گفتگو کرنا
کہ یہ کہانی دو دن کی ہم سب کی مشترکہ میراث ہے۔ اس میراث کو سب میں بانٹیں اور جاوداں ہو جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں