کورونا نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دوسرے اعضا کو بھی ناکارہ بنا دیتا ہے

واشنگٹن (آج تک) کورونا نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دوسرے اعضا کو بھی ناکارہ بنا دیتا ہے۔

عالمگیر وبا کورونا کے دنیا بھر میں مستقل پھیلنے اور اب تک خاطر خواہ علاج سامنے نہ آنے کی وجہ سے مریضوں میں صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لینے لگے ہیں جس کا اندازہ ماہرہن صحت کو اب ہو رہا ہے۔

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق مریضوں اور صحت کے نظام پر کورونا سے پیدا ہونے والے مسائل کے اثرات برسوں برقرار رہ سکتے ہیں۔

کیلیفورنیا کے اسکرپس ریسرچ ٹرانسلیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایرک ٹوپول کا کہنا ہے کہ عام طور پر کورونا کو سانس یا پیھپڑوں کا وائرس سمجھا جاتا ہے لیکن تحقیق سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ وائرس لبلبے پر بھی حملہ کرتا ہے، دل کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ جگر، گردوں اور دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ڈاکٹر ایرک ٹوپول کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کورونا کا شکار افراد کو سانس لینے میں مشکلات کے علاوہ ان مریضوں کا خون گاڑھا ہوجاتا ہے جس سے اسٹروک ہوسکتا ہے اور شدید سوزش کی وجہ سے کئی اعضا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کورونا کا شکار افراد کے پھیپڑوں کے علاوہ دیگر اعضاء کے کام چھوڑنے کی وجوہات بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وائرس سے دماغی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جن میں سردرد، چکر آنا، الجھن کی کیفیت اور سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونے کے علاوہ دماغی دورے بھی پڑسکتے ہیں۔

ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ ان مسائل سے صحتیابی سست، نامکمل اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے اور زندگی کے معیار پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
ہمارے ساتھ رابطہ کریں
Close
Close