درخت ہماری بقا کے ضامن | زرمینہ یوسف |

زرمینہ یوسف

درخت ہماری زندگی کا نہایت اہم حصہ ہیں۔یہ ہمیں لکڑی، خوراک، ایندھن اور کاغذ وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ہمیں پھل اور سایہ فراہم کرنے کے درخت ساتھ ساتھ بہت سے جانوروں، پرندوں اورکیڑوں کا مسکن بھی ہیں۔یہ کرہ ئارض کا درجہ حرارت کنٹرول کرتے ہیں۔ ہمیں آکسیجن فراہم کرتے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی نقصان دہ گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔

درخت زہریلے مواد اور آلودگی کو جذب کرتے ہیں جو بڑھتی ہوئی صنعتوں اور گاڑیوں کی وجہ سے ہمارے ماحول کا حصہ بن رہے ہیں۔درخت صحیح معنوں میں ”کرہ ارض کے پھیپھڑے“ کہلاتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو جوڑتی ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاتی ہیں۔

بدقسمتی سے، جدیدیت اور ترقی کی ہماری کوشش میں ہم منظم طریقے سے جنگلات کو تباہ کر رہے ہیں اور زمین کے وسائل کو ختم کر رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے گلوبل وارمنگ، موسم کی بے ترتیبی، سیلاب، گلیشیئرز کا پگھلنا، کسی زمانے میں زرخیز علاقے کا صحرا ہونا، مٹی کی پیداواری صلاحیت میں کمی، متعدد انواع کا ناپید ہونا، ماحولیاتی نظام میں عدم توازن اور جنگلاتی مصنوعات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ان سبھی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرہ ئ ارض اورملک کو بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی سے بچانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے کلین ایند گرین پاکستان مہم کا آغاز کیا جس کا مقصدملک میں جنگلات کی پیداوار کو بڑھانا اور گلوبل وارمنگ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے اسی وژن کوپورا کرنے کے لیے پنجاب بھر میں شجرکاری مہم جاری ہے۔ بہاول پور ڈویژن میں بھی شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں مختلف مقامات پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔کمشنربہاول پور ڈویژن کیپٹن محمد ظفر اقبال نے دی صادق گورنمٹ وومن یونیورسٹی میں، دی اسلامیہ یونیورسٹی میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے اورڈپٹی کمشنر بہاول پورعرفان علی کاٹھیا نے فرید پارک کمرشل ایریا بہاول پور میں مہم کا آغازکیا۔

رواں سال شجرکاری مہم کے سلسلہ میں بہاول پور ڈویژن میں 32 لاکھ پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے جسے 40 لاکھ تک پہنچانے کا عزم ہے۔

پودے لگانے سے ذیادہ ضروری ان کی نگہداشت اور دیکھ بھال کا عمل ہے۔ اس موقع پر شہریوں اور طلباء میں مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔

یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں طلباء کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنے نام کے پودے لگائیں۔ اس سلسلے میں واک کا بھی اہتمام کیا گیا۔


ان سب سرگرمیوں کا مقصد لوگوں میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کرنااور ملکی سطح پر کم ہوتی جنگلات کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔

کوئی بھی مہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک معاشرے کے تمام لوگ اس کا حصہ بن کر اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ایسے درخت جو ماحول دوست اور پھل دار ہوں۔ اس سلسلے میں اہم قدم بچوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ہے۔

ان کے ہاتھ سے نا صرف پودا لگوایا جائے بلکہ اس کی نگہداشت کی ذمہ داری بھی سونپی جائے۔اپنی زندگی کے اہم مواقع پرخاص کرخوشی کا اظہار کرنے کے لیے بھی پودے لگائیں۔
یہ کرہئ ارض ہمیں بہت سے وسائل کیساتھ ہماے آباء واجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ اس لیے ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کریں اور اسے بہتر بنائیں تاکہ اپنی آئندہ نسل کو ایک بہتر ورثہ دے سکیں۔

درخت لگانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور درخت لگانے والے کی وفات کے بعد بھی اس کا ثواب ملتا رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button